اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق؛ رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے 27 رجب عید بعثت کے موقع پر عوام کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم ملت ایران کو پہنچنے والے جانی اور مالی نقصانات اور ایرانی قوم پر لگائی جانے والے تہمت کی وجہ سے امریکی صدر کو مجرم سمجھتے ہیں۔
رہبر انقلاب اسلامی نے عید بعث رسول ص کے موقع پر ہزاروں لوگوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حالیہ امریکی فتنے اور اس فتنے کے منصوبہ سازوں اور حوصلہ افزائی کرنے والوں کے بارے میں ایران کے موقف پر روشنی ڈالی اور 12 جنوری کی تاریخ سازعوامی ریلیوں کی قدر دانی کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی قوم نے فتنے کی کمر توڑ دی ہے تاہم اس فتنے کی حقیقت، اہداف اور تربیت یافتہ اور فریب خوردہ عناصر کو بخوبی پہچاننے کی ضرورت ہے۔
آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے ایرانی قوم، امت مسلمہ اور دنیا بھر کے حریت پسندوں کو تاریخ بشری کی اہم ترین عید کی مبارک باد پیش کرتے ہوئے، پیغمبر عظیم الشان کی بعثت کو یوم آمد قرآن، انسان کامل کی تربیت کے الہی منصوبے سے بشریت کی آگہی، اسلامی تہذیب کے آغاز اور عدل، برادری اور مساوات کے پرچم کی سربلندی کا دن قرار دیا۔
رہبر انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب کے ایک اور حصے میں حالیہ سازش کی جانب اشارہ کیا کہ جس کی وجہ سے عوام کو تکلیف اٹھانا پڑی اور ملک کو تھوڑا بہت نقصان بھی پہنچا۔ آپ نے کہا کہ یہ فتنہ، توفیق الہی اور عوام، حکام اور ماہر اہلکاروں کے ہاتھوں ناکام ہوگیا۔ لیکن اس فتنے کی حقیقت، وجوہات اورعناصر کو سمجھنا نیز اس بات کو سمجھنا ضروری ہے کہ دشمن کے مقابلے میں اپنے رویئہ کیا ہوگا؟
رہبر انقلاب اسلامی نے حالیہ فتنے کو امریکی فتنہ قرار دیا اور مختلف سازشوں کے پس پردہ امریکی اہداف پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ موجود امریکی صدر ہی نہیں بلکہ امریکہ میں برسر اقتدار آنے والی تمام حکومتوں کا دائمی ہدف اور پالیسی، ایران کو نگلنا اور ہمارے ملک پر فوجی، سیاسی اور اقتصادی تسلط دوبارہ قائم کرنا ہے۔ کیونکہ ایران اپنے رقبے، آبادی، وسائل، سائنسی ترقی، ٹیکنالوجیکل پیشرفت اور انتہائی حساس جغرافیائی محل وقوع کے باعث امریکیوں کے لیے ناقابل برداشت ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے کہا کہ اس سے پہلے رونما ہونے والے سازشوں میں مغربی حکام کی مداخلت زیادہ تر ذرائع ابلاغ اور دوسرے درجے سیاستدانوں تک محدود تھی لیکن حالیہ فتنے کی خصوصیت یہ ہے کہ امریکی صدر نے ذاتی طور پر اس میں مداخلت کی، بیان دیا، دھمکی دی اور فسادیوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے پیغام دیا کہ آگے بڑھو، ڈرو نہیں ہم تمہاری فوجی حمایت کریں گے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے امریکی صدر کے اس بیان کو، جس میں انہوں نے تخریب کاروں اور قاتلوں کو ایرانی عوام قرار دیا ہے، عظیم ایرانی قوم پر ایک تہمت قرار دیا اور کہا کہ امریکی صدر نے کھلے عام فسادیوں کی حوصلہ افزائی کی جبکہ امریکہ اور صیہونی حکومت نے خفیہ طریقے سے ان کی مدد بھی کی بنا برایں ہم امریکی صدر کو مجرم سمجھتے ہیں کہ انہوں نے ایرانی عوام کو اذیت اور نقصان پہنچایا اور ان پر تہمت بھی لگائی۔
رہبر انقلاب اسلامی نے کہا کہ ایرانی قوم نے اس فنتے کی کمر توڑدی ہے۔ آپ نے کہا کہ ایرانی قوم نے 12 جنوری کی تاریخ ساز ریلیوں کے ذریعے دشمن کے منہ پر زور طمانچہ لگایا ہے اور فتنے کا خاتمہ کردیا۔
آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے حالیہ فتنے میں ایرانی قوم کے ہاتھوں امریکہ کی شکست کو 12 روز جنگ میں امریکہ اور صیہونی حکومت کی شکست کا تسلسل قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے ایک بڑے ہدف کے تحت اس فتنے کی گہری منصوبہ بندی کی تھی کہ جسے ملت ایران نے خاموش کردیا لیکن یہ کافی نہیں ہے بلکہ امریکہ کو اپنے اقدامات کا حساب چکانا ہوگا۔
رہبر انقلاب اسلامی نے وزارت خارجہ سمیت متعلقہ اداروں کو ہدایت کی وہ امریکہ حالیہ جرائم کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں ۔ آپ نے کہا کہ ہم ملک کو جنگ کی طرف لے جانا نہیں چاہتے لیکن ملک کے اندر کے مجرموں اور ان سے بھی بدتر بین الاقوامی مجرموں کو ہرگز نہیں چھوڑیں گے۔
آپ کا تبصرہ